Connect with us

Subscribe

Faisalabad

Travel

مانچسٹر آف پاکستان ، فیصل آباد کے 10 قابل دید مقامات

انگریزوں کے دور میں ساندل بار اور پھر لائل پور کے نام سے پہچانے جانے والے اس تاریخی شہر کو 1979ء میں پاکستانی گورنمنٹ کی جانب سے فیصل آباد کا نام دیا گیا ۔ آبادی کے لحاظ سے لاہور اور کراچی کے بعد یہ تیسرا بڑا شہر ، تجارتی و صنعتی اعتبار سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسے “مانچسٹر آف پاکستان ” بھی کہا جانے لگا ۔ فیصل آباد کی تاریخی عمارات ، عوامی باغات ، تعلیمی ادارے ، عجائب گھر  وغیرہ عوامی دلچسپی کا مرکز بنے رہتے ہیں ۔  انہی قابل دید مقامات میں سے 10 کا مختصر سا جائزہ لے کر فیصل آباد کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

:(جامعہ زرعیہ فیصل آباد  (یونیورسٹی آف ایگلری کلچر، فیصل آباد

زراعت سے متعلقہ علم کا شعور بڑھانے کے لئے 1906ء میں ایشیاء میں جو سب سے پہلے ادارہ قیام عمل میں لایا گیا وہ پنجاب زرعی کالج ،فیصل آباد تھا ۔ قیام پاکستان کے اس ادارے کے انتظام ، نصاب اور عمارت میں بھی خاطرخواہ تبدیلیاں لائی گئیں اور نام بھی بدل کے جامعہ زرعیہ فیصل آباد رکھ دیا گیا ۔ یہ یونیورسٹی دو عمارتوں ، نئے اور پرانے کیمپس پو مشتمل ہو ۔ نیا کیمپس جدید طرز تعمیر کا نمونہ ہے اور پرانا کیمپس مغلیہ طرز تعمیر کا نمونہ پیش کرتا ہے ۔ ہر طرف پھیلا ہوا سبزہ ، پھول اور کئی اقسام کے پودے ، فطرت سے قریب کرتے نظر آتے ہیں ۔ 2019ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رینکنگ میں اسلام آباد زرعی یونیورسٹی کو چوتھے اور زراعت کے شعبے میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے ۔ ہاسٹلز ، میوزیم ،آرٹ گیلری اور  لائبریری بھی اس یونیورسٹی کا حصہ ہیں ۔

:گھنٹہ گھر

سرخ پتھر سے مزین گھنٹہ گھر ، فیصل آباد کے آٹھ بازاروں کو باہم ملاتا ہے ۔ ان بازاروں کی گہما گہمی اور رونق کے عین وسط میں موجود یہ عمارت آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ ماضی کی یادوں کو تازہ کرتی نظر آتی ہے ۔ برطانوی راج کے دوران 1905ء میں ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں یہ عمارت بنائی گئی ۔ 100 فٹ اونچی یہ تاریخی عمارت سانگلہ ہل سے لائے گئے لال پتھروں سے بنائی گئی ۔ اس کی چوتھی منزل پر گھڑیال نصب ہے اور اندر کی جانب سیڑھیاں بنائی گئی ہیں ۔2010ء میں مقامی انتظامیہ نے حفاظت کی غرض سے عمارت کے چاروں اطراف  پتھر لگوائے اور جنگلے کی مرمت بھی کروائی ،تاکہ یہ ثقافتی ورثہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے۔

:علامہ اقبال پبلک لائبریری

100 سال پرانی یہ لائبریری اپنے اندر علم کا بیش بہا خزانہ سمیٹے ہوئے ہے ۔ لائبریری تین مین ہال اور  ریفرینس ہال پر مشتمل ہے ،جہاں تقریبا دس سے بارہ ہزار مختلف موضوعات سے متعلقہ کتابیں رکھی گئی ہیں ۔ بچوں کے لیے بھی ایک الگ سیکشن مختص کیا گیا ہے۔   لائلپور میوزیم اور لائلپور ہیریٹج فاؤنڈیشن بھی اس لائبریری کی اراضی پر واقع ہیں ۔ 1911ء میں تعمیر کی جانے والی اس لائبریری کو “کارونیشن لائبریری” کا نام دیا گیا ، پھر قیام پاکستان کے بعد “پیپلز ڈسٹرکٹ لائبریری” کہلائی جانے لگی اور پھر ضیاء الحق کے دور میں شاعر مشرق علامہ اقبال کی یاد میں “علامہ اقبال پبلک لائبریری” کا نام دے دیا گیا۔

:گمٹی واٹر فاؤنٹین

 صنعتی شہر فیصل آباد کا ایک اور تاریخی ورثہ انیسویں صدی کے اوائل برطانوی کوئن راج کے دوران بنایا گیا ۔ 8 دروازوں ،16 ستونوں اور گولائی شکل میں بنائی گئی فاؤنٹین جب پانی اچھالتی ہے تو وہ سحر انگیز نظارہ ،ہر ایک کو اپنی طرف دیکھنے پہ ابھارتا ہے۔  آج بھی یہ عمارت پرانے ادوار کی نشانیاں لیے ریل بازار کے باہر ، چوک کی صورت موجود ہے ۔

:لائل پور میوزیم 

فیصل آباد کی تاریخ ، ثقافت اور تہذیب کو اپنے اندر سموتا ،  یہ میوزیم 2011ء میں تعمیر کیا گیا ۔ اس میوزیم میں 10 گیلریز بنائی گئی ہیں جن میں مختلف تاریخی ادوار کے سکے ، برتن ، پینٹنگز ، ساندل بار علاقے کے رسم و رواج اور کھیل وغیرہ کے نمونے ، برطانوی دور میں استعمال ہونے والے لباس ، گھروں کے نقشہ جات ، زیورات بنانے کے مختلف اوزار اور اس دور کے مختلف معاہدوں کی دستاویزات وغیرہ نئی نسل کے لیے تاریخ کو ایک دفعہ پھر تازہ کرتی نظر آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ تحریک پاکستان سے متعلقہ قائد اعظم کی مختلف تصاویر ، آرٹ اور ٹیکسٹائل کے نمونے اور مشہور شخصیات کی تصاویر بھی گیلریز کی زینت بنی ہوئی ہیں ۔

 :گٹ والا وائلڈ لائف پارک

تقریبا 131 ایکڑ زمین پر مشتمل ، فیصل آباد کا سب سے بڑا پارک ، وائلڈ لائف انتظامیہ کی طرف سے 1992ء میں تکمیل کو پہنچا ۔ عوام میں وائلڈ لائف سے متعلقہ شعور بیدار کرنے اور تفریحی مقاصد کے لیے اس پارک میں مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں ،جن میں سرسبزو شاداب پارکس ، مختلف قسم کے جانور ،پرندے ، دو قدرتی نہریں ، واکنگ ٹریک ، بیمبو فاریسٹ اور بوٹنگ وغیرہ شامل ہیں ۔

:ستارہ مال

فیصل آباد شہر کو جہاں تاریخی عمارات رونق بخش رہی ہیں ،وہیں جدید طرز تعمیر کی بلندو بالا عمارات بھی سر اٹھائے کھڑی نظر آتی ہیں ۔ انہی عمارات میں سے ستارہ مال اپنے رنگ بکھیرتا ایم ایم عالم روڈ پر موجود ہے ۔ اس مال کے پر سکون ماحول میں مقامی اور غیر ملکی اشیاء بآسانی میسر کی گئی ہیں ۔ بچوں کے لئے پلے ایریا ، تفریح اور کھانے اور سیکیورٹی اور پارکنگ کی بھی بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

:اقبال سٹیڈیم

 کرکٹ کے شوقین افراد کی پسندیدہ جگہ ،جہاں تقریبا دنیا بھر کی کرکٹ ٹیمز اپنے کھیل کے ہنر دکھا کر داد وصول کر چکی ہیں ۔ یہ سٹیڈیم ماضی میں لائل پور ،نیشنل سٹیڈیم اور سٹی سٹیڈیم کے نام سے پہچانا جاتا رہا اور پھر علامہ اقبال کے اعزاز میں سے “اقبال سٹیڈیم” کا نام دے دیا گیا ۔ مختلف ون ڈے ،نیشنل اور انٹرنیشنل سطح کے کرکٹ میچز یہاں منعقد کئے جاتے ہیں ۔

: سندھ باد امیوزمنٹ پارک

اس پارک کو بچوں کے لئے بہترین تفریحی مقام کہنا کچھ غلط نہ ہو گا ۔ پرسکون ماحول ، پارکنگ ایریا ، بہترین سیکیورٹی اور دلچسپ ویڈیو گیمز اور جھولوں کا نہایت ہی مناسب قیمت میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ بھوک مٹانے کے لئے مختلف ریسٹورانٹس کی سہولت بھی موجود ہے ۔

: قیصری گیٹ 

  برطانوی راج کے دوران1897ء میں یہ دروازہ تعمیر کیا گیا ۔ ریل بازار کے بیرونی سرے پر واقع یہ دروازہ کئی سالوں بعد بھی ماضی کی یادوں کو تازہ کرتا نظر آتا ہے ۔  کنکریٹ ، پیلے اور بھورے رنگ سے بنا یہ دروازہ مغلیہ دور کے فن تعمیر کی عکاسی کرتا ہے ۔ قدیم دور میں دروازے کے اوپر لکھا گیا نام اور تاریخ ، آج بھی واضح نظر آتی ہے ۔

Subscribe to Infotainment box updates

Comments
Advertisement

Advertisement
Connect
Subscribe to Infotainment box updates