Connect with us

Subscribe

پٹواری نون لیگ کھوتا بریانی

Entertainment

مردوں کا سیاست پے بات کرنا منع ہے ۔۔ حصہ دوئم۔۔

۶ ۔۔ مفت کے کھابے ۔۔ یہ ہے وہ مشغلہ جس کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔۔ چاہے خوشی کا موقعہ ہو، بچے کے ختنے ہوں، یا پنچائیت میں اپنی کڑکی پھنسی ہو، شادی ہو، سیاسی جلسہ ہو، یا کوئی میٹکرک پاس کر آیا ہو، یا لندن سے آرہا ہو، یا پھرحج کرکے آیا ہو، مفت کے کھابے کے ہر کوئی تلاش میں ہوتا ہے۔ اس تلاش میں پڑھے لکھے کی کوئی قید نہیں ہوتی کیوں کہ ہم لوگوں نے سکول میں کتابیں سہی نہیں پڑھی ہوتیں تو کھانے کی تمیز کہاں سیکھی ہونی ہے۔۔ گویا کہ جب کھانا کھلتا ہے تو سمجھیں ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔ کوئی گودے والی ہڈی سے گودا چوس رہا ہوتا ہے، کوئی کباب پے کباب لاد رہا ہوتا ہے، بوتلیں چلنے تک اور بوتلیں میز کے نیچے لکانے تک، ایک عظیم غدر بپا ہوجاتا ہے۔۔
پاکستانی قوم مفت کے کھابے کے لیے تو کے ٹو تک اپنا ٹبر لے جاسکتی ہے۔۔

طلباء اور نوجوانان تو خاص طور پے بکرا ڈھونڈتے ہیں۔۔ کسی نے نیا موبائل لیا ہو، یا پھرکسی کی سالگرہ ہو، بکرا ہمیشہ خود کو بننا پڑتا ہے۔۔ بالخصوص، کنجوس لوگ تو خودکشی کو ترجیح دیں گے اگر وہ کبھی پھنس جائیں دوستوں میں۔۔ یہ موقعے پاکستانی عوام ٹھیک میٹرک کے بعد تلاش کرنا شروع کرتی ہے۔ گھر کا مفتا باپ ذیادہ دیر برداشت نہیں کرتا، لہذا باہر بھی مفتا نوکری سے پہلے دریافت کیا جاتا ہے۔
کسی دوست کی نوکری لگ جائے، دل تو اپنا جلتا ہے پر یہ جلن مفت کھابا دیکھ کے رفع ہوجاتی ہے۔۔

یہ تو تھا کھابا۔۔اور ہاں، جادو ٹونا ہوجائے، تو پیر صاحب کی موج اور حلوے کی دیگ پکّی۔۔
پولیس کیس ہوجائے، تو پولیس کے لیے دیگیں پکّی۔۔
جلسہ کرنا ہو تو دیگ پکّی۔۔
نظر اتروانی ہو تو صدقے کی دیگ پکّی۔۔
معمہ یہ ہے کہ شاید، فرشتوں کو بھی، آہو۔۔
۔۔۔۔

۷ ۔۔ سیلفی لینا ۔۔ سیلفی ہمارا قومی اور خاندانی اندر کا مراثی تلاش کرنے والا مشغلہ ہے۔ کیا مرد، کیا عورتیں، اس کے فیض سے مستفید ہوتے ہیں۔۔ اس ملک میں کیا کیا ٹیلینٹ نہیں آیا ٹک ٹاک کے بدولت، ہم لوگ شعیب اختر کے بعد ایک اچھا بولر تو تلاش نا کرسکے، لیکن کیا کیا ذات بدذات کی سیلفیاں نہیں آتی۔ اور تو اور اب سیلفی جان لیوا ڈائن بھی بن چکی ہے۔۔ حال ہی میں دبئ میں ایک افغانی لڑکی برج دبئ کو پس منظر میں رکھ کے، گیاروھیں منزل پے بالکونی میں کرسی رکھ کے سیلفی لیتے لیتے بالکونی سے کرسی سے پھسلی اور بس، سیلفی امر ہوگئی۔۔
کیا شادیاں، کیا سالگرہ، سیلفی کے بغیرکوئی بھی تقریب، ٹانگیں ٹیڑھی کیے اور منہ بطخ کی طرح بنائی بغیر پوری نہیں ہوتی۔ اور تو اور آپ مشہور ہونا چاہتے ہیں؟ آپ ایرپورٹ پے، چائے خانوں میں مشاہیر کا انتظار کریں، وہ آئیں اور آپ جھپٹ کے ان کا بازو پکڑیں اور سیلفی ٹھوک لیں۔۔ کوئی ۱۰۰ کے قریب ایسی سیلفیاں لیں، آپ دنوں میں مشہور ہوجائینگے
اب وہ کونسی جگہیں ہیں جہاں آپکو یہ مشاہیر ملیں گے ۔۔ کراچی میں کلفٹن میں فورم مال، سمندر کنارے ڈولمیں مال، خیابان بخاری، ڈومینوز پیزا ڈیفینس، بٹلرز کافے دیفینس، ڈی ایچ اے کے جتنے کمرشل ہیں آپ سب ناپ لیں، خاص طور پے آپ فوڈ کورٹ میں بیٹھ کے ایک اضافی میل ان پین دی سری مشاہیر کے لیے ارڈر کرلیں اور کھانے پے انہیں مدعو کرکے لی گئی سیلفی آپکو اور آپکے گھر والوں کو شہرت کی بلندیوں پے لے جائے گی۔۔ لوگوں کو لگے گا ہمایوں سعید آپ کا کزن ہے اور روز آپکو وہ ڈولمیں مال لے آتا ہے۔۔
لاہور میں چائے خانہ، ٹی ایم کافے، بٹلرز کافے، مال ون، ڈیفینس کے کمرشل کافے، ایمپوریم، پیکیجز مال، کینٹ میں کیولری گراؤنڈ کا بازار، پی سی، جم خانہ، نیز اگر آپ باقی کے بناوٹی موٹیویشنل اسپیکرز کی طرح سستی اور تیز ترین شہرت پے چڑھنا چاہتے ہیں تو ان مقامات کو آپ اپنا مسکن بنا لیں، ڈھیٹ بن جائیں اور سیلفی کنگ بن جائیں، کامیابی آپکے قدم چومے گی بھی اور آپکے ناپ کا جوتا بھی لاکے دے گی۔۔ یہ جتنے بھی سیلف میڈ سیلیبریٹیز ہوتے ہیں، خاص کر پاکستان میں، یہ تقریبا سب انہی اوچھی حرکتوں سے اوپرآئے ہوتے ہیں۔۔لہذا آپ بے فکر ہوکر کود جائیں، سستی شہرت آپکا انتظار کررہی ہے۔۔ اور پاکستان میں شہرت اصلی ہو یا ڈنگروں والی، لوگوں کو فرق نہیں پڑتا، وہ صرف مشاہیر کے ساتھ سیلفی بنوانا پسند کرتے ہیں۔۔

۸۔۔ ۔۔ فیسبک پے لڑکی بننا۔۔

جب سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی نعمت آئی ہے، ہم نے بحیثیت قوم قسم کھائی ہے کہ کوئی مثبت کام نہیں کرنا، تاہم اس سارے شوروغوغا میں ہم نے جہاں پورن ویبسائیٹس کی کھوج میں نسلوں کو لگایا، وہیں ہم نے نت نئے تجربات بھی شروع کیے جس میں لڑکی بن کے لڑکوں کو ٹھگنا اور دو دوبجے تک باتیں ٹھوکنا، ملنے کے نام پے سو سو بہانے تراشنا، کبھی گھر والوں کا بہانا، کبھی ہبی کا بہانا، کبھی طبیعت کا، کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔۔
یہ وہ زمانہ تھا جب انٹرنیٹ پے ایم آئی آر سی، اورکٹ، یاہو گروپس، ایم ایس این مسینجر ہوتے تھے اور مائیکروسوفٹ کا اسکوائراسپیس ہوتا تھا، تب وہ فیس بوک کی جگہ بنا رہا تھا۔

لڑکی بن کے بہت لوگ لٹے، بہت سے تو دل کھو بیٹھے، اور کچھ تو سنجیدگی میں دل پے لے بیٹھتے، رواج اب بھی ہے پر کالج کی سطح تک ہوگا، جہاں دور دراز کے سادے لوگ اس جھانسے میں آجاتے ہیں، جب سبا ذندہ ہے تو سمجھ لیجیے کہ کوئی نا کوئی عرفان ریحان امیر ہورہا ہے۔۔
اب، لڑکیاں خود اس شعبہ میں باقعدہ داخل ہوگئی ہیں، سچ مچ کی لڑکی آپ میں دلچسپی لینے لگ جائی تو سمجھ لیجئیے کہ آپ کے باپ کی لاٹری نکل آئی ہے اور وہ بتا نہیں رہے۔۔ورنہ آجکل کی لڑکیاں اتنی تو بیوقوف نہیں کہ کسی بھی وکالت پڑھتے، سر تیل سے چوپڑے ہوئے لڑکے کے ساتھ فری ہوجائے۔ بلکہ آجکل کی لڑکیاں تو جب تک چار چار بےوقوف نا اکھٹی کرلیں تو اس کی اپنی سہیلیوں میں عزت نہیں رہتی۔۔
لہذا ایسی لڑکیوں کا ہر ایسے لنڈے کے عاشق کے لیے ایک ٹائم سلاٹ ہوتا ہے۔۔ کسی کا ٹائم ۱۰ بجے تو کوئی ۳ بجے بھگتا لیا جاتا ہے۔۔
بلکہ سگے بھائی بھی ایک ہی لڑکی کے ساتھ پھنسے ہوتے ھیں۔۔ یعنی دیور بے وقوف بن رہا ہے یا پھر جھیٹ۔۔
———-

۹۔۔ دوستوں سے مفتے کی تلاش میں رہنا۔۔

یہ ہمارا قومی فریضہ ہے ۔ بچہ پاس ہوجائے، نوکری مل جائی، سمجھیں کہ دوستوں کی لاٹری نکل آئی، یعنی آپ کا میٹرک آپکو ۳۰۰۰ یا ۴۰۰۰ میں بآسانی پڑجاتا ہے۔۔
اور پارٹی نا بھی دینی ہو، یار بائک تو دینا، دینے کیا، الٹالینے کے دینے پڑجاتے ہیں، بائک چاہئے بچی کوڈیٹ کروانی ہے۔ پھر یار۲۰۰۰ روپے دینا، اگلے مہینے کنفرم واپس کردونگا ۔ بندہ سوچے، پیوکے پیسے پے راج کرنے کےلیے پیدا ہوا تھا، یا اپنے دوستوں کے۔۔
تو مفتہ ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے۔
ایسے دوستوں کو پرکھنا ہو، توکبھی کہہ کے دیکھ لیں کہ آؤ نماز پڑھ لیں تووہ خود بھی غائب ہوجائینگے بلکہ انکی دُم بھی غائب ہوجائیگی۔۔ ایسوں سے پیسے کی واپسی طلب کریں توپھر ٹال مٹول۔۔لہذا جان چھڑائیں، اپنی بھی اوراپنے گھروالوں کی بھی۔
وہ لوگ اچھے رہتے ہیں جو ہروقت روتے رہتے ہیں۔۔ دستور بنا ہوا ہے۔

تاڑنا، تاڑو پروگرام

۱۰۔۔ تاڑنا۔۔

اوئے ہوئے۔۔ یہ تووہ کمال ہے ہماری قوم کا جو عید کے بازار سے شروع ہوتا ہے اور اگلی عید تک جاری و ساری رہتا ہے۔۔ اچھا تاڑنے کے بھی طریقے ہیں، یعنی بیغیرتی نہیں بیغیرتا میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔۔
ایک تو دیکھنا ہوتا ہے، جیسے کسی دکان میں نئے جوتے کو دیکھ رہے ہیں ۔۔ تاڑنا وہ ہوتا ہے کہ جوتے کی دکان میں جوتا کم اور جوتا پہننے والی کو ذیادہ دیکھا جاتا ہے۔۔
یہ نظروں کی ہوس بچپن میں ہی پروان چڑھنے لگتی ہے، اور گھر سے ہی شروعات ہوتی ہے۔ ہم لوگ بچوں کوکتابیں تو نہیں تھماتے، انڈیا کی فلمیں تھما دیتے ہیں، رہی سہی کسرٹک ٹاک نے پوری کردی ہے۔۔ ایسا ایسا شاہکار ٹک ٹاک پے وج رہا ہے کہ بندہ اور ضمیر دونوں پے غسل فرض ہوجاتا ہے۔۔
تو تاڑتے کیسے ہیں ۔۔ بس ایسے جیسے بلک کبوتر کو تاڑتی ہے۔۔ اور جیسے پروانے کو چھپکلی۔۔
اچھا یہ صرف اسکول کالجوں تک محدود نہیں ہے، یہ اب دفاتر میں، شادیوں میں، جوائنٹ فیملی میں تگڑے لیول پے ہوتی ہے۔۔ اور اس میں نیشنل اسمبلی بھی مبراء نہیں۔۔
یعنی اب عورتوں کو اگر پتہ لگ جائے کہ ہم مرد کس طرح تاڑتے ہیں تو بکتربند گاڑیوں کا لوہے کا خول بنوا کراور پہن کر پھریں۔۔
اور یہ صفت ہماری قوم کی بہت تگڑی صفت ہے۔۔ اس سے چھٹکارا تو اگلے دس بیس سال تک تو نہیں ہے۔۔

اور اس سب میں سب سے ذیادہ کوفت کا شکار لڑکی کا بھائی ہوتا ہے حالانکہ وہ خود بھی بہت بڑا تاڑو ہوتا ہے۔۔

Subscribe to Infotainment box updates

Comments
Advertisement

Advertisement
Connect
Subscribe to Infotainment box updates