Connect with us

Subscribe

Pakistani's Favourite Pastime

Entertainment

مردوں کا سیاست پے بات کرنا منع ہے۔۔ حصہ اول۔۔

How Pakistanis spend time intelligently
How Pakistanis spend time intelligently

اچھا جی۔۔
آج ہے مورخہ ۱۵ نومبر ۲۰۱۹۔۔
آج سورج جو پاکستان میں نکلا، وہی سورج سعودی عرب میں بھی اسی آب و تاب سے نکلا۔ لیکن ۲ گھنٹا لیٹ۔۔اور یہ آج سے نہیں، بلکہ یہ سلسلہ ۱۹۲۵ سے چلا آرہا ہے۔۔ سورج نے ایک بھی دن نا چھٹی کی نا کسی بہانے سے غائب ہوا۔۔ یعنی اپنے مدار میں وہ چکر کاٹ رہا ہے۔۔
اس تمہید کا مقصد فقط یہ ہے کہ جب سائینس کے اصول سورج کے معاملے میں قدرت کے ساتھ دخل اندازی نہیں کرتے تو پھر چاند کے معاملے میں بھی نہیں کرتے ہونگے۔۔ سہی؟
لیکن یہی سائینس عید کا موقعے پے دغا کیوں دے جاتا ہے؟
یعنی کہ اسی مدار میں چاند اور دو گھنٹے کا فرق۔۔ٹھیک؟ لیکن پاکستان میں چاند ایک دن بعد ہی کیوں اور مشرق وسطی میں ایک دن پہلے؟
جب رفتار ایک، فرق بھی ۲ گھنٹے کا، مدار بھی ایک، تو اسکا سیدھا مطلب یہی ہوا کہ چاند معیشت کو دیکھ کر نکلتا ہے۔۔چونکہ مشرق وسطی کی معیشت ہم سے قدرے بہتر ہے اس لیے وہاں درشن تیز ہوجاتے ہیں۔۔
خیر سائنسدانوں کی باتیں یا تو مولوی جانیں یا پھرخود چاند۔۔
بات کیا کرنی تھی ہم عید کی خوشیاں لے بیٹھے۔۔

اچھا جی، اب آتے ہیں موضوع پے۔۔

لیکن پہلے کچھ سوال و جواب۔۔

۱۔۔ حال ہی آپ نے کونسے فلم دیکھی ۔۔ انڈین نا؟ یا پھر انگریزی۔۔؟
۲۔۔ آپ کے دوست کے پاس آجکل کونسا موبائل ہے۔۔؟
۳۔۔ ڈنیزن یا پھر اوٴٹ فٹر۔۔؟
۴۔۔ ٹک ٹوک میں آپ کا فیورٹ اسٹار کونسا ہے۔۔
۵۔۔ آپ کے جاننے والوں میں سے کسی کو مردانہ کمزوری کس کو ہے۔۔؟
۶۔۔ آپ کے امریکہ والی کزن آپکو پسند کرتی ہے۔۔؟
۷۔۔آخری بار آپ کا پھڈا کہاں ہوا تھا۔۔؟

میرا خیال ہے کے آپ نے ان سب سوالوں کے سارے سہی جوابات دیے ہونگے۔۔
پاکستان میں پاکستانی دنیا کی چوتھی ذہیں تریں قوم ہے۔۔

آئیے آج ہم اپنے قومی مشغلے پے بات تفصیل سے کرتے ہیں۔۔
پاکستانیوں کے پسندیدہ ترین موضوعات یہ ہیں۔۔علاوہ سیاست اور مذہب کے۔۔
۱۔۔سیکس۔۔
۲۔۔ٹک ٹوک۔۔
۳۔۔انڈین فلمیں۔۔
۴۔۔مفت کے مشورے۔۔
۵۔۔پھڑے مارنا۔۔
۶۔۔مفت کے کھابے۔۔
۷۔۔سیلفی لینا۔۔
۸۔۔ فیسبک پے لڑکی بننا۔۔
۹۔۔ دوستوں سے مفتے کی تلاش میں رہنا۔۔
۱۰۔۔ تاڑنا۔۔
۱۱۔۔لڑکیوں کے گھر والوں کے کام فی سبیل اللہ کرنا۔۔
۱۲۔۔ موبائل کی باتیں۔۔
۱۳۔۔ موبائل اسسریز پے گفتگو۔۔
۱۴۔۔ مردانہ ٹوٹکے بتانا۔۔
۱۵۔۔گاڑیوں کی باتیں۔۔
۱۶۔۔الاؤئے رم کی باتیں۔۔
۱۷۔۔سینما گھروں کی باتیں۔۔
۱۸۔۔ سیزن کی باتیں۔۔
۱۹۔۔ ماموں اور چچاؤں کے اسٹیٹس کی باتیں۔۔
۲۰۔۔دبئی کی باتیں۔۔
۲۱۔۔ شہر کے مختلف رستوں کی باتیں۔۔
۲۲۔۔ ڈیٹنگ کی باتیں۔۔
۲۳۔۔ مہنگائی کا رونا۔۔
۲۴۔۔ کرکٹ پے باتیں۔۔
۲۵۔۔ جگت بازی۔۔
۲۶۔۔دیسی ٹوٹکے بتانا۔۔
۲۷۔۔خالی رکشے میں بھی جھانکنا کے شاید کوئی بیٹھی ہو۔۔
۲۸۔۔ لڑکیوں کی باتیں۔۔ ان کے خدو خال پے تبصرے اور خیالی پلاؤ بنانا۔۔اور اسی پلاؤ کو پھر الٹا دینا۔۔

۲۹۔۔ ون ویلنگ کی باتیں۔۔
۳۰۔۔نا ہونے والے سفر کی منصوبہ بندی کرنا۔۔
۳۱۔۔ مختلف کھابوں کی بات کرنا۔۔
۳۲۔۔ اپنے امریکہ والے کزن اور ماموں کی باتیں کرنا۔۔
۳۳۔۔ دبئ کینیڈا کی ویزے کی بات کرنا۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کے فہرست لمبی ہوجانی ہے۔۔اب چلتے ہیں ان سب باتوں کی تفصیلات میں۔۔

۱۔۔

۱۔ سیکس ۔ پاکستان کا بہتریں مشغلہ، پسِ چلمن ہو یا کھلے آم ہو۔۔مرد اور عورتیں دونوں برابر کے چسکولے ہیں ہم سب۔ اگر آپ متفق نہ ہوں تو دل پے ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ آپ سنی لیون سے واقف نہیں۔؟ ہر کوئی ہے۔ پھر دل پے ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ آخری بار ٹوٹے آپ نے پچھلے ہفتے دیکھے تھے نا۔۔؟
یہ وہ موضوع ہے جس پے گھنٹھوں پے محیط گفتگو آپ بغیر رکے کرسکتے ہیں۔۔بحث کرلیں لیکن نوبت مجال ہے کہ لڑائی تک کوئی لے جائے۔۔ موضوع ہی ایسا چسکے والا اور ذائقہ دار ہے۔
بلکہ ہم لوگ ایک ترسی ہوئی قوم ہیں۔۔ ترس کھا کے ہی تو گھر والے شادی کرواتے ہیں۔۔
سنی لیون کو چھوڑیں، اگر آپ جونی سمز کو نہیں جانتے تو آپ کو انٹرنیٹ کا کنکشن آج اور ابھی کٹوا دینا چاہیے۔۔ آپ اس لائق ہی نہیں کہ اپ سے بات بھی کی جائے۔۔


۲۔ ٹک ٹاک ۔۔ سیکس کے بعد جس چیز نے اس قوم کی تخلیقی مادے کو اجاگر کیا ہے وہ ٹک ٹاک ہے۔۔ نہایت ہی بھونڈا ٹیلینٹ بھی آپ کو ۵۰۰ فالوورز کے ساتھ ملے گا۔۔لہذا اس ہنر کو سیریس لیں اور ترقی کا زینا اس کے ابّا کے گھر تک پہنچائیں۔۔ اگر رشتہ چاہیے ہے تو۔۔
ویسے جرائم روکنے میں ٹک ٹاک کافی مدد کر سکتا ہے ۔ وہ ایسے کہ ٹک ٹاک آپ کو آپ کی چولوں کے پیسے دیتا ہے ۔۔ اگر آپ کے پاس فالوورز کی مطلوبہ تعداد ہے توآپ بڑی آسانی سے ٹک ٹاک پے پیسے کما سکتے ہیں۔۔
۱۔ چولیں ماریں اور فالوورز بڑھائیں۔۔
۲۔ اور پھر پیسے کمائیں۔۔
تو بات ہورہی تھی کہ جرائم کی روک تھام میں ٹک ٹاک ایک کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وہ ایسے کہ مجرم پکڑیں، قید کریں اور اس سے کہیں کہ ٹک ٹاک پے چولیں مارو اور مطلوبہ فالوورز کی تعداد بڑھاؤ، جس دن وہ پیسے کمانے شروع کردے، اسے رہا کردیں، تب تک اسے ٹک ٹاک کا نشہ ویسے ہی لگ چکا ہوگا کہ دوبارہ جرم کی طرف نہیں آئے گا
—–

۳ ۔۔ انڈیں فلمیں ۔۔
ٹک ٹوکیا نسل کے بعد اگر کوئی شے جو سب کو محبوب ہے، وہ ہے انڈین فلمیں۔۔ کیا مرد، کیا خواتین ۔۔ یہ ایک قومی نشے کے تور پر متعارف ہوا اور پھر چل سو چل، ایک پوری انڈسٹری صرف ہمیں گمراہ کرنے کے لیے کھڑی کی گئی اور اس انڈسٹری کو ۲۲ کڑوڑ لوگ آج سے نہیں، ۵۰ کی دہائی سے کامیاب کرتے آرہے ہیں۔۔ المیہ در المیہ ۔۔ اور تو اور آج تو ٹک ٹوک کا رونا ہے، آج کی نسل سے پہلے انتاکشری والی بھی ایک فارغ نسل یہاں پروان چڑھ چکی ہے۔۔
یہی انتاکشرے والی فارغ نسل ہی جس نے کوئی ڈھنگ کا کام بھی سر انجام نہیں دیا۔۔
یعنی آو ہمارا منہ حاضر ہے اور چپیڑیں مار کے لال کرتے رہو۔۔ بات پاکیزہ سے شروع ہوئی اور سنی دیول سے ہوتی ہوئی سنی لیون پے آتے آتے کتنے گھروں کے چراغوں سے آنکھوں کی شرم لے جاتی رہی۔
اب رواج ہی آیٹم سونگ کا ہے ۔۔ یعنی مہندی کے گانے اور رسم سنی دیدی کے گانوں سے مزین نا ہو تو مہندی کے مہمان اٹھ کے جانا شروع کردیتے ہیں۔۔تو کیوں نا بھاگیں لڑکیاں پھر۔۔؟ کیوں نا آئزہ خان عدنان صدیقی کو پسند کرے۔؟

لہذا جو ہورہا ہے، ہوتا رہے گا۔ ویسے پچھلے ہفتے کونسی نئی انڈین فلم آئی ہے۔۔؟ پتہ تو ہوگا۔۔خیر جو بیڑا غرق ہونا تھا ہوچکا۔۔
ہمارے ہاں انڈین فلموں کا ایک جنون پایا جاتا ہے ۔۔ گھنٹوں فلم کی ہیرؤین اور ہیرو پے تبصرے۔۔لڑکیاں ہیرو کی شکل دیکھنے کے لیے بے تاب رہتی ہیں۔۔لڑکے خاتون آرٹسٹ کا سوچ کے تنہائی رنگیں کرتے ہیں۔۔
اور اگر یہ اسٹار ایر پورٹ پے مل جائیں تو سیلفی کے لیے یہ عوام شاید اپنے ساتھ، دوسروں کے کپڑے بھی پھاڑ لے۔۔
آپس کی بات ہے کہ آج ہم ان اسٹارز کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں تو یہ بھوکے مر جائیں۔۔
اور ان کے پیچھے بھاگنے سے آپ اپنی عزت بھی خاک کرتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ میں آگے بڑھنے کی ہمت اور جستجو نہیں ہے اس لیے سستے اسٹیتس لگانے کے لیے آپ اسٹارزکے پیچھے دم لاتے ہوئے ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں۔۔
—-
انڈین فلموں نے آپکی ثقافت کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔۔خیر ثقافت ہمارے لیے نِل بٹا سناٹا۔۔ اس لیے ٹھنڈ رکھتے ہیں۔۔
۔۔۔
۴۔ مفت کے مشورے ۔۔۔
سب سے سستا اور چلتا پھرتا کلینک ۔۔ یعنی مفت کا مشورہ
کسی سے کاروبار کا پوچھنا ہو ۔۔ دینے والے کے پاس شاید خود نا پیسے ہوں پر آپ کو کڑوڑوں کی کاروبار کے مشورے ضرور دیگا ۔۔ آزمائش پر شرط ہے۔۔
بیمار ہوجاؤ ۔۔ بیسیوں مشورے مل جائیںگے۔۔
کچھ کھانا ہو تو مشورہ۔
بیٹی کی شادی کرنی ہو تو پھپو کا مفت کا مشورہ ۔۔ اور اگر ان کے کہنے پے کر بھی لو تو پھپو کی ناراضگی پھر بھی پکّی۔۔
کہیں کھانے جانا ہو تو ساس کے مشورے ۔۔ ارے بہو، کیوں بیٹے کے پیسے ضائع کرنے پے تُلی ہوئی ہو ۔۔ پیسے پیڑوں پے نہیں لگتے آجکل۔۔ بہتر ہے کہ گھر پے کچھ بنالو۔۔میرا کیا ہے میں تو روکھی سوکھی کھا لوں گی۔۔
اور اگر بیٹا بھی باہر کھانے کے موڈ بنا چکا ہو تو کوہنی مار کے ساس اپنی سہیلی کو جھٹ کہتی ہے، لے ویکھ لے، بڈی نے تھلے لا لیا جے، منڈا ہن گیا۔۔ہائے ہائے اسی دن کے لیے پیدا کیا تھا۔۔؟ وغیرہ وغیرہ۔۔
گھر بنانا ہو تو کئی کھوتے کی شکل والے سِول انجیینئر بیٹھے بیٹھے بن جاتے ہیں۔۔
مفت کے مشورے تو لوگ قصائی کو بھی عید پے دے رہے ہوتے ہیں حالانکہ، سارا سال چھری نہیں پکڑی ہوتی۔۔ یعنی کہ یہ وہ صنعت ہے کہ اگر اس کا انسائیکلوپیڈیا بنایا جائے تو اگلے ۲۰ سال تک توڑا نا جاسکے۔۔
سب سے ذیادہ مشورے ان لوگوں کو ملتے ہیں جنہوں نے پسند کی شادی کی ہوتی ہے، یا پھراپنی دولت لٹا بیٹھے ہوتے ہیں اور لوگ چسکے بازی میں انہیں مشورے دے رہے ہوتے ہیں۔۔
نکمّے نکھٹو بچے بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں، تھوڑے کیا نمبر کم آئے کہ محلّے دار کیا، رشتہ دار کیا، سب امپائر بن جاتے ہیں۔۔

——

۵ ۔۔ پھڑے مارنا ۔۔ یوں تو ہم پیدائشی ایس ایچ او ہوتے ہیں پر بنتے بنتے ۳۰ سال لگا دیتے ہیں۔۔ اس سارے عرصے میں ہم ہمارے ماموں، جن کے نام پے ہم بے شمار لوگوں کوماموں بنا دیتے ہیں، چچا وغیرہ سب یا تو آئی جی ہوکے ریٹائیر ہوچکے ہوتے ہیں یا پھر گھر والے (ان کے، ہمارے نہیں) پینشں لے رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب کی ریٹایرمنٹ پھڑے مارنے کا سامان ہوتا ہے۔۔ تاکہ ہماری پھڑیں سننے والا کہیں کوئی کام نا کہ دے۔۔
تو ہم پاکستانی پھڑے باز قوم ہے ۔۔ یعنی کہ ہر دوسرا پاکستانی کسی نا کسی ایس ایچ او کو جانتا ہے یا پھر مل کے آرہا ہوتا ہے۔۔ یا پھر کسے ریٹائرڈ فوجی ماموں کو پی سی میں دعوت دے کے آرہا ہوتا ہے۔۔
کوئی پھڈا ہوجائے، تو کچھ یوں ہوتا ہے، ’’ یار بس تو دیکھ، ماموں اپنے صدر تھانے میں آجکل تعینات ہیں اپنے بندے بھیج رہے ہیں، بس تو دیکھ،‘‘ اسی لارے میں بندہ پٹ بھی جاتا ہے اور دوست کا ماموں ابّا پیدا ہوکے نہیں دیتا۔۔
اور اگر یہی دوست دبئی نکل جائے تو گویا یا تو پہچانتا نہیں یا پھر یوں کہتا ہے، بس ایک دفعہ تیرے اس بھائی کو دبئی جا لینے دے، پھر دیکھ یہ تیرا بھائی تیرا ویزا لگوائے گا اور ہم دونوں بھائی مل کے کاروبار کریں گے، بس دیکھتا جا۔۔

اور تو اور، عابد باکسر تو ہر پھڑے باز کا جاننے والا ہوتا ہی ہے۔۔ کوئی کام ہو، عابد باکسر حاضر۔۔ اور پولیس میں ہی نہیں، بلکہ ہر شعبہ پھڑے باز کی زد میں ہوتا ہے۔۔ یعنی حلف کی کمی ہوتی ہے ورنہ پھڑے باز تقریباً قریب قریب وزیرِاعظم ہوتا ہے، شاید اس سے بھی دو چار ہاتھ آگے۔۔لاہوریے اس معاملے میں کبھی بھی کفایت شعار ثابت نہیں ہوئے، دنیا کا ہر بڑا بندہ ان کا جاننے والا ہوتا ہے۔۔ کیا بِل گیٹس، کیا امریکے کا صدر، کیا محلے کی پھوپو کی بیٹی۔۔

(جاری ہے)۔۔

Subscribe to Infotainment box updates

Comments
Advertisement

Advertisement
Connect
Subscribe to Infotainment box updates