Connect with us

Subscribe

Life style

مشہور پاکستانی مٹھائیاں

مٹھائی کا ذکر آئے اور منہ میں پانی نہ  آئے، یہ ناممکن سی بات ہے ۔ کوئی دعوت یا تقریب میٹھے کے بغیر نامکمل سی لگتی ہے ۔ خصوصا پاکستانی میٹھے تو شکل اور ذائقے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ کوئی خوشی اور شادی بیاہ کا موقع ہو تو خصوصا مٹھائیاں کھانے ،کھلانے اور بانٹنے کا رواج عام ہے ۔ دلکش اور خوبصورت سی پیکنگ میں انواع و اقسام کی مٹھائیاں تحفے کے طور پر پیش کی جائیں تو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے ۔ چلیے انہی پاکستانی مٹھائیوں میں سے چند کا ذکر کر کے رس بھرا مزہ لیتے ہیں ۔

رس گلہ

مختلف قسم کے رنگ اور شکل میں دستیاب یہ مٹھائی میدہ ، تازہ پنیر اور شیرے سے بنائی جاتی ہے ۔ پہلے مرحلے میں میدے اور پنیر کو ملا کر لمبی یا گول شکل کی گولیاں بنائی جاتی ہیں اور پھر مرحلہ آتا ہے ان گولیوں کو شیرے میں پکانے کا ،یہاں تک کہ میٹھا اندر تک رس بس جائے ۔ اسی مناسبت سے اس کو رس گلہ کہا جاتا ہے ۔ یہ میٹھا اور نرم رس گلہ پاکستان میں بہت ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے اور بعض جگہ”چم چم” کے نام سے بھی مشہور ہے ۔ اس کے ذائقے کو دوبالا کرنے کے لیے اس کے اوپر کھوپرا ، ناریل یا باریک کٹے ہوئے پستہ اور بادام کا بھی چھڑکاؤ کیا جا سکتا ہے ۔

برفی

ہر دلعزیز مٹھائی کی یہ قسم  بنیادی طور پر دودھ اور چینی سے بنائی جاتی ہے ۔ پہلے دودھ سے کھویا تیار کر کے پھر اس میں چینی شامل کی جاتی ہے۔ خالص دودھ کا استعمال اور چینی کی مناسب مقدار ہی مٹھائی کے اصل ذائقہ اور معیار کا تعین کرتی ہے ۔ لذیذ برفی کی دیگر اقسام کھجور ، بیسن ، کاجو ، پستہ وغیرہ شامل کے کے بنائی جاتی ہیں ۔

گلاب جامن 

حال ہی میں پاکستان کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر کئے گئے ایک سروے میں قومی مٹھائی کا درجہ گلاب جامن کو دیا گیا ہے ۔  سادہ گلاب جامن میدہ ، کھویا ، بیکنگ پاؤڈر اور انڈے کو ملا کر بنائے جاتے ہیں ۔ آمیزے کو گول جامن جیسی شکل میں ڈھال کر گرم تیل میں فرائی کیا جاتا ہے اور آخر میں شیرے میں ڈبویا جاتا ہے ۔مختلف علاقوں میں مزید اجزاء بھی شامل کر کے مختلف اقسام کے گلاب جامن بنانے کا بھی رواج ہے ۔

جلیبی

جلیبی کو زلابیہ اور ذولوبیہ بھی  کہا جاتا ہے ۔ اس قدیم میٹھی سوغات کے اوپر کئی محاورے بھی بنائے گئے اور ہر دور میں لوگوں کے دلوں پر بھی راج کرتی رہی ۔ میدہ ،بیسن اور دال کے آمیزے کو ململ کے کپڑے میں ڈال کر نہایت مہارت سے گول گول دائروں کی شکل میں گرم تیل میں فرائی کہا جاتا ہے اور پھر شیرے میں ڈبو دیا جاتا ہے ۔ بعض لوگ بغیر میٹھے کی جلیبی پسند کرتے ہیں ۔ دودھ میں ڈال کر جلیبی کھانے کا رواج بھی عام ملتا ہے ۔ جلیبی نہ صرف زبان کو ذائقہ دیتی ہے بلکہ دماغ کو تقویت بھی بخشتی ہے ۔ خاص طور پر سردیوں میں اس کا استعمال نزلہ زکام سے بچاتا ہے ۔

 پتیسہ

انتہائی مہارت سے تیار یہ مٹھائی پتیسہ ، لچھا مٹھائی ، بمبئی پتیسہ اور سوہن پاپڑی کے نام سے معروف ہے ۔ یہ مٹھائی پرتوں کی شکل میں بنائی جاتی ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ تہیں خستہ ، بھربھری اور کرکری ہوں ۔ پتیسہ کے بنیادی اجزاء بیسن ، دیسی گھی ، الائچی ، چینی اور میدہ ہیں ۔ جتنا زیادہ بل دے کر اور بار بار کاٹ کر یہ مٹھائی بنائی جاتی ہے اتنا ہی ذائقے دار، منہ میں گھلتا ہوا پتیسہ بنتا ہے ۔ اس مٹھائی کی شکل ، ذائقہ اور بنانے کا طریقہ ہی اسے دوسری مٹھائیوں سے ممتاز بناتا ہے ۔ مستطیل یا چوکور شکل کے پتیسے پر بادام اور پستہ کی سجاوٹ کر کے پیش کیا جاتا ہے ۔

 لڈو

 

زرد رنگ کی اس مٹھائی کو بیسن، باریک کٹے ہوئے خشک میوہ جات ، گھی اور چینی سے بنائے جاتے ہیں ۔ اجزاء کو باہم ملا کر زرد رنگ کی گیند میں ڈھال جاتا ہے اور پھر گھی میں تل لیا جاتا ہے ۔ لڈو کو کئی طریقوں سے بنایا جاتا ہے ۔ موتی چور کے لڈو ، بیسن لڈو ، بوندی لڈو ، کھجور کے لڈو، راوا لڈو ،مونگ دال لڈو ، تل کے لڈو اور اس کے علاوہ بھی کافی اقسام کے طریقوں سے لڈو کو بنانے اور کھانے کا رواج ہے ۔ ماضی اس مٹھائی کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے اور آج کل ہر تقریب کو چاشنی اور رونق بخشتا نظر آتا ہے ۔

پیڑہ

بنیادی طور پر کھوئے سے بنائی جانے والی یہ لذیذ مٹھائی منفرد زائقے اور رنگت کی حامل ہوتی ہے ۔  اس میں شامل کھویا تو ہردلعزیز ہوتا ہی ہے اور ساتھ ساتھ دیگر اجزاء ، جیسے کہ چینی ، باریک کٹی ہوئی ،الائچی اور بادام پیڑے کے شکل اور ذائقے کو مزید چار چاند لگانے کا باعث بنتے ہیں ۔

پیٹھا 

پیٹھے کہ مٹھائی پورے پاکستان میں اور خاص طور پر صوبہ پنجاب میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے ۔ پیٹھے کو چھیل کر چوکور یا لمنے ٹکڑوں میں کاٹ کر ابالا جاتا ہے ۔ پھر ان نیم گلے ٹکڑوں کو چاشنی میں ڈال کر پکایا جاتا ہے ۔ پکانے کا یہ عمل تب تک جاری رہتا ہے جب تک چاشنی گاڑھی ہو کر ٹکڑوں پر جمنے لگے ۔ پھر مرحلہ آتا ہے عرق گلاب یا کیوڑہ ڈالنے کا اور خشک ہونے پر ان مزیدار پیٹھا مٹھائی کو نوش فرمانے کا ۔

قلاقند

قلاقند مٹھائی پنیر اور دودھ سے بنائی جاتی ہے ۔ بہترین ذائقہ پانے کے لئے دونوں چیزوں کو ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے ۔ ساتھ میں کٹا ہوا لائچی دانہ ، چینی اور عرق گلاب بھی شامل کیا جاتا ہے ۔جب آمیزہ گاڑھا ہو جائے تو ایک کھلے برتن میں پھیلا کر ٹھنڈا ہونے دی جاتا ہے۔ پھر اپنی پسندیدہ اشکال میں کاٹ کر باریک کٹے ہوئے پستے اور بادام وغیرہ سے سجا کر نوش کیا جاتا ہے ۔

بالو شاہی

یہ روایتی مٹھائی دہی ،میدہ، بیکنگ سوڈا اور گھی سے بنائی جاتی ہے ۔یہ باہر سے خستہ اور اندر سے نرم اور پرت در پرت ہوتی ہے ۔ ان تمام اجزاء کو ٹھنڈے پانی کے ساتھ  گوندھ کر  چھوٹی چھوٹی گیند کی اشکال میں ڈھال کر  ہلکی آنچ پر تیل میں فرائی کیا جاتا ہے ۔ آخر میں چاشنی میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ مٹھاس اندر تک بھر جائے ۔

امرتی

شاہی زمانے کی شہرت یافتہ، سرخ رنگ کی یہ پھول دار مٹھائی دال ماش کے آٹے ،اراروٹ اور شیرے سے بنائی جاتی ہے ۔ بعض علاقوں میں اس مٹھائی کو “جہانگیری” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ یہ دکھنے میں جلیبی سے قدرے موٹی ہوتی ہے ۔

Subscribe to Infotainment box updates

Comments
Advertisement

Advertisement
Connect
Subscribe to Infotainment box updates