Connect with us

Subscribe

Culture Heritage of Pakistan

تاریخ و ثقافت کے شاہکار نمونے ، لاہور کے بارہ دروازے

قدیم تاریخ و ثقافت کا رنگ لیے شہر لاہور ، قابل دید قابل رشک نظاروں کا ایک ڈھیر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ خصوصا اندرون لاہور کا نظارہ کرنے اور تاریخ کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے سیاح ادھر کا رخ کرتے رہتے ہیں ۔ مغلیہ دور حکومت میں شہر کے چاروں اطراف بارہ دروازوں پر مشتمل ایک فصیل تعمیر کی گئی ۔ گزرتے وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ، ان بارہ  دروازوں میں سے صرف آٹھ دروازے اپنی اصل شکل میں برقرار رہے ۔ چلیے ایک نظر ڈالتے ہیں تاریخ و ثقافت کے ان شاہکار، بارہ دروازوں پر ۔

۔1.لاہوری دروازہ

مغل بادشاہ اکبر کے دور میں تعمیر کیا جانے والا سب سے پرانا دروازہ ، جس کا اصل نام لاہور ہوا کرتا تھا مگر بعد میں بگڑ کر لاہوری ہو گیا۔ اس دروازے کا رخ، اس دور کے اہم علاقے اچھرہ کی جانب ہونے کی وجہ سے “لاہور دروازہ” نام رکھا گیا ۔ یہ واحد دروازہ ہے جو کہ اب تک اپنی اصل شکل میں برقرار ہے اور آپ کو بتاتے چلیں کے لاہور کا مشہور ترین بازار “انارکلی ” بھی اسی دروازے کے ساتھ ہے ۔

۔2.موچی دروازہ

لاہور کا ایک اہم ترین دروازہ ، جس کے اندر موجود ماضی کے فن تعمیر کا منہ بولتا شاہکار عمارات ، مبارک حویلی ،نثار حویلی اور لال حویلی موجود ہیں ۔ اس دروازہ کے قریب موجود “موچی باغ ” ماضی سیاسی جلسوں کے انعقاد کی وجہ سے کافی معروف رہا ہے ۔ بادشاہ اکبر کے دور میں ایک محافظ پنڈت کے نام پر اس دروازے کا نام “موتی دروازہ” رکھا گیا ۔ جو کہ بعد میں “مورچی”اور پھر “موچی” کے نام سے مشہور ہو گیا ۔

۔3.شاہ عالمی دروازہ

اورنگزیب عالمگیر کے بیٹے شاہ عالم کے نام سے موسوم یہ دروازہ ، تقسیم برصغیر کے دوران جلا کر خاک کر دیا گیا ۔ اس دروازے کے پاس کئی تاریخی مساجد ،حویلیاں ، یادگاریں اور قدیم بازار جیسے کہ رنگ محل، سوہا (صرافہ) بازار، کناری بازار ، اعظم کلاتھ مارکیٹ بھی موجود ہیں ۔

۔4.کشمیری دروازہ

مشہور سنہری مسجد اور قدیم کشمیری بازار پر مشتمل اس دروازے کا رخ کشمیر کی جانب ہونے کی وجہ سے اس کو “کشمیری دروازہ” کا نام دیا گیا ۔ یہاں سے ایک سڑک مشہور اعظم کلاتھ مارکیٹ کی طرف اور دوسری سڑک وزیر خان مسجد کی طرف لے جاتی ہے ۔ اس دروازے پر مغلیہ دور کے خطاطی کے شاہکار نمونوں بھی رقم ہیں ۔

۔5.دہلی دروازہ

مغل بادشاہ اکبر کے دور میں تعمیر کردہ اس دروازھ کے اندر متعدد تاریخی عمارات ، لنڈا بازار ، وزیر خان مسجد اور پرانی حویلیاں موجود ہیں ۔ دہلی دروازہ کے نام کا سبب، اس دروازے کا رخ دہلی کی طرف ہونا تھا ۔ ماضی میں یہ دروازہ لاہور دہلی آمدورفت کا واحد راستہ تھا ۔ یہاں آنے والے لوگ اس دروازے کے پاس موجود شاہی حمام کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں ۔

۔6.اکبری دروازہ

مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے نام سے موسوم یہ دروازہ اب صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے ۔ اکبر بادشاہ نے اس دروازے کے پاس، اپنے نام سے ہی موسوم ” اکبری منڈی” بنوائی اور آج تک یہ منڈی لاہور کی ایک مشہور ہول سیل اور ریٹیل ماکیٹ ہے ۔

۔7.ٹکسالی دروازہ

ماضی میں اس جگہ سکے ڈھالنے والا کارخانہ “ٹکسال” موجود تھا ،جس کی وجہ سے اس دروازے کا نام “ٹکسالی دروازہ” مشہور ہوا ۔ مشہور شیخوپڑیاں بازار ،گوردوارہ لال کھوہ اور پانی والا تالاب بھی اس دروازے کے اندر موجود ہیں ۔ لیکن حالیہ دور میں ٹکسال اور ٹکسالی دروازہ دونوں منہدم ہو چکے ہیں ۔

۔8.روشنائی دروازہ

اب تک اپنی اصل حالت میں موجود یہ دروازہ باقی سب دروازوں سے اونچا اور چوڑا ہے ۔ یہ دروازہ، مشہور تاریخی عمارات شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے درمیان میں موجود ہو کر ان عمارات کی شان مزید بڑھاتا نظر آتا ہے ۔ شام کے وقت اس دروازے کو روشن کیا جاتا ہے اور یہی مسحور کن روشنائی اس دروازے کے نام کا سبب بنی ۔ مشہور حضوری باغ بھی اسی دروازے سے ملحق ہے۔

۔9. مستی دروازہ

یہ دروازہ شاہی قلعہ کی پشت پر موجود ہے ۔اکبر بادشاہ کی والدہ کے نام سے منسوب مسجد یہاں واقع ہونے کی وجہ سے اس دروازے کو “مسجدی دروازہ ” کہا جاتا تھا ۔مگر بعد میں بگڑ کر “مستی دروازہ” بن گیا ۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ ایک محافظ “مستی بلوچ ” کے نام پر اس دروازے کا نام رکھا گیا ۔

۔10.بھاٹی دروازہ

سید علی ہجویری کے مزار کی سمت واقع یہ دروازہ ، راجپوت قبیلے بھاٹ یا بھاٹی سے منسوب ہے ۔ مشہور بازار حکیماں اور میوزیم کی اس دروزے کے ساتھ موجودگی اور سب سے بڑھ کر علامہ اقبال جیسے عظیم انسان اور نامور شاعر کا بازار حکیماں میں رہائش پزیر ہونا ، اس دروازے کی اہمیت کو چار چاند لگاتا ہے ۔

۔11.خضری یا شیرانوالہ دروازہ

تنگ بازاروں پر مشتمل یہ دروازہ پرانے لاہور کی روایتی اور سادہ سے زندگی کی یادیں تازہ کرتا نظر آتا ہے ۔ امیر البحر کے نام سے معروف بزرگ خواجہ خضر الیاس کے نام پر پہلے اس دروازے کا نام ” خضری دروازہ “رکھا گیا جو کہ بعد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں تبدیل ہو کے “شیرانوالہ دروازہ ” کے نام سے مشہور ہوا ۔

 ۔12.ذکی یا یکی دروازہ

صوفی اور محافظ ، شہید زکی کے نام سے منسوب اس دروازے کے اردگرد کئی تاریخی حویلیاں اور مندر موجود ہیں ۔ اس صوفی بزرگ کی داستان بھی انتہائی دلچسپ ہے ۔ دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دی گیا۔ لیکن انہوں نے دشمن کو غالب نہ آنے دیا ۔ بعد میں بگڑ کر اس دروازے کا نام ” یکی ” مشہور ہو گیا۔

Lahore – the city of lost art, culture and history; combine it with the love of food, frolic play, and you wouldn’t want the spell of Lahore to be over. Fused with tradition, modern living, hustle and bustle, there lies the age old secret of the old walled city which has seen its share of celebrations, crises, wars, laughter, peace and joy.

Lahore has endured much and added colors to one’s lifestyle.

 

 

”Lahore

Subscribe to Infotainment box updates

Comments
Advertisement

Evolution of Public Transport in Lahore

Travel

لاہور کے چند بہترین خریداری کے مقامات

Life style

لاہور کے چھے بہترین تعلیمی ادارے

Life style

پاکستان کے سات بڑے شاپنگ مالز

Life style

Advertisement
Connect
Subscribe to Infotainment box updates